Friday, 8 November 2013

diobandi-shia-brailvi fake faith


 اس لیے کہ ہم ﷲ تعالی کے فضل و کرم سے قرآن و حدیث پر عمل کرتے ہیں، رفع یدین سنت ہے اور صحیح ترین احادیث سے ثابت ہے تو ہم اس سنت پر عمل کیوں نہ کریں۔ رفع یدین کی احادیث مختلف صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے تمام کتب احادیث میں مروی ہیں۔ سب سے صحیح حدیث جناب عبد ﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ کی ہے جو کتب ستہ اور دیگر کتب حدیث میں مذکور ہے۔ وھو ہذا:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ فِي الصَّلاَةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ حِينَ يُكَبِّرُ لِلرُّكُوعِ، وَيَفْعَلُ ذَلِكَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، وَيَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، وَلاَ يَفْعَلُ ذَلِكَ فِي السُّجُودِ " (صحیح البخاری، كِتَابُ الأَذَانِ،بَابُ رَفْعِ اليَدَيْنِ إِذَا كَبَّرَ وَإِذَا رَكَعَ وَإِذَا رَفَعَ:736)(1)
محمد بن مقاتل، عبداللہ بن مبارک، یونس، زہری، سالم بن عبداللہ ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ نماز میں اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں شانوں کے برابر تک اٹھاتے اور جب آپ رکوع کے لئے تکبیر کہتے یہی (اس وقت بھی) کرتے اور یہی جب آپ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے اس وقت بھی کرتے اور{سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ} کہتے (لیکن) سجدہ میں آپ یہ عمل نہ کرتے تھے۔
 ماننے والوں کے لیے رفع یدین کے ثبوت میں رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک یہی حدیث کافی ہے کیونکہ یہ سب سے صحیح ہے۔ اس کے مقابلے میں کوئی ایک حدیث صحیح تو درکنار اس کے پاسنگ بھی نہیں۔ امام بخاری کے استاد امام علی بن مدینی اس حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں۔
 رَفْعُ الْیَدَیْنِ حَقٌّ عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ حُجَّۃٌ عَلَی الْخَلْقِ کُلُّ مَنْ سَمِعَہ‘ فَعَلَیْہِ اَنْ یَّعْمَلَ بِہِ۔(2)
یعنی اس حدیث کی رو سے رفع یدین کرنا ہر مسلمان پر حق ہے۔ یہ حدیث اتنی صحیح ہے کہ مخلوق پر حجت ہے جو اس کو سنے اس کو چاہیے کہ اس پر عمل کرے۔
 انور شاہ کشمیری حنفی دیوبندی جو حنفیوں میں بہت بڑے محدث ہو گزرے ہیں اور دارالعلوم دیوبند میں حدیث کے استاد رہے ہیں۔ ان کو بھی اپنے رسالہ ’’نیل الفرقدین‘‘ صفحہ26 میں یہ حقیقت تسلیم کرنا پڑی۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
’’اَمَّا حَدِیْثُ ابْنِ عُمَرَ فَھُوَ حُجَّۃٌ عَلَی الْخَلْقِ کَمَا ذَکَرَہ‘ عَنِ ابْنِ الْمَدِیْنِیْ‘‘(3)
یعنی امام علی ابن مدینی نے بالکل ٹھیک کہا ہے۔ یہ حدیث ہر لحاظ سے اتنی صحیح ہے کہ سچ مچ ہی مسلمانوں پر رفع الیدین کو لازم کرتی ہے۔
 کتاب الام میں امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
“لاَ یَجُوْزُ لِاَحَدٍ عَلِمَہ‘ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ عِنْدِیْ اَنْ یَّتْرُکَہ“(4)
امام ابن جوزی بھی اپنی کتاب ’’نزہۃ الناظر‘‘ میں امام شافعی رحمہ اللہ کا ایک ایسا ہی قول نقل کرتے ہیں:
“لاَ یَحِلُّ لِاَحَدٍ سَمِعَ حَدِیْثَ رَسُوْلِ ﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ رَفْعِ الْیَدَیْنِ اَنْ یَّتْرُکَ الْاِقْتِدَاءَ بِفِعْلِہ وَ ھٰذَا صَرِیْحٌ اِنَّہ‘ یُوْجِبُ ذٰلِکَ“
یعنی کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی صحیح حدیث سنے اور پھر رفع یدین نہ کرے۔ ایسی صحیح حدیث ہو تو اس پر عمل کرنا خود بخود واجب ہو جاتا ہے۔
 اسی وجہ سے بعض ائمہ نماز میں رفع یدین کو واجب قرار دیتے ہیں۔ ایسی صحیح اور صریح حدیث کے بعد کسی اور حوالے کی ضرورت تو نہ تھی، لیکن مزید اطمینان کے لیے ترمذی سے ایک حوالہ نقل کیا جاتا ہے۔
 امام ترمذی فرماتے ہیں رفع الیدین کی حدیث کے راوی صرف عبداللہ بن عمر ہی نہیں بلکہ عمر، علی، وائل بن حجر، کعب بن مالک بن الحویرث، انس، ابوہریرہ، ابوحمید ساعدی، ابواسید، سہل بن سعد، محمد بن مسلمہ، ابوقتادہ، ابوموسیٰ اشعری، جابر، عمیر اللیثی، ۔۔۔ یہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی رفع الیدین کی حدیث کے راوی ہیں۔ دیگر کتابوں میں اور بہت سے صحابہ کرام سے رفع یدین کی روایات آتی ہیں، لیکن سب کے نقل کرنے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ مسئلے کے ثبوت کے لیے تو ایک ہی صحیح حدیث کافی ہے۔(5)
رفع یدین منسوخ بھی نہیں
 حنفی علما یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ یہ حدیث تو صحیح ہے، لیکن رفع یدین شروع میں تھی، پھر منسوخ ہو گئی، کیوں کہ:
1- جن صحابہ کرام سے رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کا رفع یدین کرنا مروی ہے، ان میں سے کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد میں ترک کر دی تھی۔
2- عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جو رفع یدین کی صحیح ترین روایت کے راوی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی رفع یدین کیا کرتے تھے۔(6)
بلکہ جو رفع یدین نہ کرتا تو وہ اس کو کنکر مارتے۔(7)
 3- مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ 9 ھ میں گرمی میں مسلمان ہوئے، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو متنازعہ رفع یدین کرتے دیکھا۔(8)
 4- وائل بن حجر رضی اللہ عنہ 9 ھ میں سردی میں مسلمان ہوئے انھوں نے اس وقت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رفع یدین کرتے دیکھا۔ پھر جب اگلے سال 10 ھ میں وہ سردیوں میں دوبارہ مدینہ طیبہ آئے تو انھوں نے اس وقت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کو رفع یدین کرتے دیکھا۔(9)
اس سے ثابت ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 10 ھ یعنی اپنی آخری زندگی میں رفع الیدین کرتے تھے۔
5- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ کرام کا رفع یدین کرنا۔ چنانچہ امام حسن بصری اور امام حمید بن ہلال بیان کرتے ہیں: (کَانَ اَصْحَابُ رَسُوْلِ ﷲِ یَرْفَعُوْنَ ) قریباً تمام صحابہ کرام رفع یدین کرتے تھے۔(10)
 6- سعید بن جبیر جو جلیل القدر تابعی ہیں وہ بھی گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام نماز میں رفع یدین کیا کرتے تھے۔(11)
 7- ابوحمید ساعدی کا دس صحابہ کرام کی موجودگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھ کر دکھانا اور اس میں رفع یدین کرنا(12)
اسی طرح ابوموسیٰ اشعری کا رفع یدین کے ساتھ نماز پڑھنا اور پھر کہنا کہ اس طرح نماز پڑھا کرو اور خاص کر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد رفع یدین کرکے نماز پڑھنا (تلخیص اور بیھقی)(13)
یہ سب ایسے دلائل ہیں جن سے قطعیت کے ساتھ ثابت ہوتا ہے کہ رفع یدین منسوخ نہیں ہوئی۔ اسی وجہ سے انور شاہ کشمیری کو ماننا پڑا۔
“لَمْ یُنْسَخْ وَ لاَ حَرفٌ مِنْہُ” رفع یدین کی سنت کا منسوخ ہونا تو درکنار‘ رفع یدین کا ایک حرف بھی منسوخ نہیں ہوا۔(14)
یعنی ان کو بھی تسلیم ہے کہ رفع یدین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائمی اور مستقل سنت ہے۔
 اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے جب رفع یدین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مستقل اور دائمی سنت ہے جو صحیح احادیث سے ثابت ہے اور منسوخ بھی قطعاً نہیں تو پھر حنفی نماز میں رفع یدین
 کیوں نہیں کرتے، کیا حنفی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو نہیں مانتے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ حنفی، حنفی مذہب کا پابند ہوتا ہے۔ چونکہ حنفی مذہب میں رفع یدین نہیں اس لیے حنفی رفع یدین نہیں کرتے۔ رہ گیا احادیث کے ماننے کا سوال تو حنفی صرف ان حدیثوں کو مانتے ہیں جو ان کے مذہب کے مطابق ہوں، جو احادیث ان کے مذہب کے خلاف ہوں خواہ وہ کتنی بھی صحیح کیوں نہ ہوں حنفی ان کو نہیں مانتے۔ اگر حنفی احادیث کو مانیں تو وہ حنفی نہیں رہ سکتے۔ اگر انھوں نے احادیث کو ماننا ہو تو وہ حنفی کیوں بنیں؟ یہی وجہ ہے حنفیوں کے بہت سے مسائل حدیث کے خلاف ہیں۔ حنفیوں کا اصل مذہب حنفی ہے، وہ فقہ حنفی پر ہی چلتے ہیں خواہ وہ حدیث کے موافق ہو یا مخالف۔ حنفی اہل حدیث نہیں جو وہ حدیث پر چلیں۔ حدیث پر چلنا تو اہل حدیث کا کام ہے۔ اہل حدیث کسی کی تقلید نہیں کرتے کہ کسی کی فقہ ان کا مذہب ہو۔ ان کا مذہب تو حدیث ہے، جب حدیث صحیح ثابت ہو گئی تو وہ اس پر عمل کریں گے۔
 انتباہ
 بعض حنفی مولوی یہ کہہ کر عوام کو دھوکا دیتے ہیں کہ رفع یدین شروع اسلام میں تھی پھر منسوخ ہو گئی۔ اب ہم نے یہ ثابت کر دیا کہ 10ھ تک بلکہ وفات تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رفع یدین کرنا صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ جیسا کہ جناب وائل اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین خاص کر عبداللہ بن عمر کے عمل اور بیان سے واضح ہے۔ فَمَا زَالَتْ تِلْکَ صَلٰوتُہ‘ حَتّٰی لَقِیَ اﷲَ ۱۵یعنی ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہونے تک رفع یدین کرتے رہے‘‘ ۔۔۔ ملاحظہ ہو حنفیوں کی مشہور کتاب ’’ نصب الرایۃ فی تخریج احایث الھدایۃ‘‘ اب جس مولوی یا مفتی کا یہ دعویٰ ہو کہ رفع یدین منسوخ ہے تو اس کا فرض ہے کہ 10ھ کے بعد کی کوئی ایسی صحیح حدیث دکھائے جس میں یہ صراحت ہو کہ 10ھ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رفع یدین بالکل ترک کردی تھی۔ رہ گئی عبداللہ بن مسعود اور براء بن عازب رضی اللہ عنہم کی روایات جن کو اکثر حنفی مولوی پیش کرتے ہیں تو اولا تو وہ سخت ضعیف ہیں‘ بڑے بڑے ائمہ محدثین
 مثلا امام بخاری‘ امام احمد‘ امام ابوداؤد ‘ امام دار قطنی‘ وغیرھم ان کو ضعیف کہتے ہیں۔ ثانیا ان ضعیف احادیث کی تاریخ کا کوئی پتا نہیں کہ وہ 10ھ سے پہلے کی ہیں یا بعد کی۔ رفع یدین کو منسوخ ثابت کرنے کے لیے 10ھ کے بعد کی کوئی صحیح حدیث ہونی چاہیے۔ پہلے کی کسی حدیث کا کوئی فائدہ نہیں۔ اگر حنفی مولوی یہ ثابت نہ کر سکیں کہ یہ حدیث10ھ کے بعد کی ہے اور صحیح ہے جس سے ان کا دعویٰ ثابت ہوتا ہے۔ اور وہ ہرگز ثابت نہیں کر سکتے (لَوْ کاَنَ بَعْضُھُمْ لِبَعْضٍ ظَہِیْرًا)[17:الاسراء:88]تو ان کو اللہ تعالی سے ڈرنا چاہیے ۔ انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ثابت شدہ سنت رفع یدین کی مخالفت ہرگز نہیں کرنی چاہیے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا ترک بہت بڑا جرم ہے تو اس کی مخالفت کرنا کتنا بڑا جرم ہوگا۔ ترک سنت کی سزا
 حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (سِتَّۃٌ لَعَنْتُھُم وَ لَعْنَھُمُ اﷲُ وَ کُلُّ نَبِیٍّ کَانَ الزاءِدُ فِی کِتَابِ اﷲِ وَالْمُکَذِّبُ بِقَدَرِ اﷲِ وَالْمُتَسَلِّطُ بِالْجَبَرُوْتِ لِیُعِزَّمَنْ اَذَلَّ ﷲُ وَ یُذِلَّ مَنْ اَعَزَّ ﷲُ وَالْمُسْتَحِّلُ لِحَرَمِ ﷲِ وَالْمُسْتَحِلُّ مِن عِتْرَتِیْ مَا حَرَّمَ ﷲُ وَالتَّارِکُ لِسُنَّتِیْ)(16)
یعنی چھ شخصوں پر اللہ کا رسول بھی لعنت کرتا ہے اور اللہ بھی لعنت کرتا ہے اور ان چھ شخصوں میں سے ایک وہ شخص ہے جو سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تارک ہو۔
 کیا ان کو اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی لعنت سے ڈر نہیں لگتا جو رفع یدین جیسی اہم اور دائمی سنت کے صرف تارک ہی نہیں بلکہ مخالف بھی ہیں۔ جو اس سنت پر عمل کرتا ہے وہ اس کو برا جانتے ہیں۔ انجام بخیر چاہنے والے ہر حنفی کو چاہیے کہ وہ تعصب کو چھوڑ کر ٹھنڈے دل سے اس رسالہ کو پڑھے اور اپنے مولوی اور مفتی کو بھی پڑھائے پھر ان سے قرآن پر ہاتھ رکھوا کر قسم دے کر پوچھے کہ کیا رفع یدین سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں؟ کیا واقعی یہ منسوخ ہے جس مولوی یا مفتی کے دل میں ذرا بھی آخرت کا خوف ہوگا وہ یہ رسالہ پڑھ کر کبھی بھی قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم نہیں کھائے گا کہ رفع یدین سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں۔ یا یہ منسوخ ہے۔ برعکس اس کے کہ ہم اہل حدیث ہر وقت قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھا سکتے ہیں اور بڑے دعوے سے کہ سکتے ہیں کہ مذہب اہل حدیث اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذہب ہے جو یقیناً حق ہے۔ رفع یدین سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے صحیح ترین احادیث سے ثابت ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخر تک عمل کرتے رہے۔ یہ سنت ہرگز منسوخ نہیں جو جھوٹ پر قسم کھائے گا اس پر یقیناً اللہ تعالی کی لعنت ہوگی۔ اللہ ہر مسلمان کو حق پر چلنے اور رفع یدین جیسی سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرنے کی توفیق دے تاکہ وہ ترک سنت کی وجہ سے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لعنت سے بچ جائے۔
 والھدایۃ بیداللہ ولا حول و لا قوۃ الا باللہ
*************************************************************
 (1) (بخاری، کتاب الاذان، باب الی این یرفع یدیہ:736، مسلم: کتاب الصلٰوۃ، باب استحباب رفع الیدین حذوالمنکبین مع تکبیرہ الاحرام والرکوع و فی الرفع من الرکوع و انہ لا یفعلہ اذا رفع من السجود:211، ابوداؤد، کتاب الصلوۃ، باب رفع الیدین فی الصلوۃ:721، ترمذی، کتاب الصلٰوۃ، باب رفع الیدین عند الرکوع:255، نسائی، کتاب الافتتاح، باب رفع الیدین حذوا المنکبین:879، ابن ماجۃ، کتاب ابواب اقامۃ الصلوات و السنۃ فیھا ص2548: (858)
 (2) جزء رفع الیدین رقم:2
 (3) نیل الفرقدین ص:26
 (4) کتاب الام، باب رفع الیدین فی التکبیر فی الصلٰوہ ج 1 ص:91
 (5) ترمذی، ابواب الصلٰوہ، باب رفع الیدین عند الرکوع:256
 (6) بخاری، کتاب الاذان، باب رفع الیدین اذا قام من الرکعتین:739
 (7) جزء رفع الیدین:15
 (8) بخاری، کتاب الاذان، باب رفع الیدین اذا کبر و اذا رکع وا ذا رفع:737، مسلم، کتاب الصلوۃ، باب استحباب رفع الیدین حذو المنکبین مع تکبیرۃ الاحرام والرکوع و فی الرفع من الرکوع و انہ لا یفعلہ اذا رفع من السجود، عن مالک بن حویرث:23
 (9) نسائی، کتاب التطبیق، باب مکان الیدین من السجود:1103، ابوداؤد، ابواب تفریع استفتاح الصلوۃ، باب رفع الیدین فی الصلوۃ:726
 (10) جزء رفع الیدین:30
 (11) جزء رفع الیدین:39
 (12) ابوداؤد، ابواب تفریع استفتاح الصلوۃ، باب افتتاح الصلوۃ:730، صحیح ابن خزیمہ کتاب الصلوۃ، باب الاعتدال فی الرکوع والتجانی و وضع الیدین علی الرکبتین 297/1: 587، عن ابی حمید الساعدی
(13) بیہقی کتاب الصلوۃ، باب رفع الیدین عند الرکوع و عند رفع الراس منہ ج 2ص:73
 (14) نیل الفرقدین ص:22
 (15) تلخیص الحبیر 218/1، کتاب الصلوۃ، باب صفۃ الصلوۃ:328، نصب الرایۃ، کتاب الصلٰوۃ، باب صفۃ الصلٰوۃ ج 1ص: 483
 (16) ترمذی، کتاب القدر، باب اعظام امرالایمان بالقدر، ص1868 :2154، مشکٰوۃ المصابیح، کتاب الایمان ، باب الایمان بالقدر، 38/1 :109














No comments:

Post a Comment